بینگلورو، 3/مئی (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک میں 10 مئی کو ہورہے اسمبلی انتخابات کے لئے بی جے پی اپنا پورا زور لگارہی ہے کہ کسی طرح اقتدار ہاتھ سے جانے نہ پائے۔ اس کے لئے ماحول کو فرقہ وارانہ رُخ پر لے جانے کی بھرپور کوشش ہورہی ہے۔اسی کوشش کے تحت منگل کو وزیراعظم نریندر مودی نے بٹلہ ہاؤس کا تذکرہ کرتے ہوئے کانگریس پر الزام تراشیاں کیں۔ انہوں نےکہا کہ دہلی کے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی تصویریں دیکھ کرکانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں۔ انہوں نے صرف اتنے پر بس نہیں کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ کانگریس کی تاریخ دہشت گردی اور دہشت گردوں کو خوش کرنے کی رہی ہے اوراس نے کرناٹک کو بھی دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔
وزیراعظم مودی نےایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ نے دیکھا ہے کہ کرناٹک میں کانگریس کس طرح دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے؟ کانگریس نے کرناٹک کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔ یہ بی جے پی ہی ہے جس نے دہشت گردوں کے خلاف مہم چلا کر ان کی کمر توڑ دی۔کرناٹک کی خوشحالی کیلئے، اس کا محفوظ ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی دہشت گردی اور دہشت گردوں کو خوش کرنے کی تاریخ رہی ہے۔ کرناٹک کے لوگوں کو کانگریس کی تاریخ اور اس کے پیچھے غلط ارادے کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں دہشت گردوں کے مارے جانے کی خبر سن کر کانگریس کی سب سے قد آور لیڈر (سونیا گاندھی) کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
خیال رہے کہ مختلف فیکٹ فائنڈنگ رپورٹوں کی بنیاد پر بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کو جعلی انکاؤنٹر کے طور پریاد کیا جاتا رہا ہے۔ ان رپورٹوں میں یہ باتیں بھی سامنے آئی تھیں کہ وہاں مارے گئے نوجوان بےقصور تھے۔ اسی حوالے سے کانگریس لیڈر سلمان خورشید نے اترپردیش اسمبلی انتخابات۲۰۱۲ء کے دوران ایک ریلی میں کہا تھا کہ سونیا گاندھی مارےگئے دہشت گردوں کی تصویریں دیکھ کررونے لگی تھیں۔ کرناٹک الیکشن میں نریندر مودی وہی یاد کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے سرجیکل اسٹرائیک کے بعد ملک کی سیکوریٹی فورسیزکی صلاحیتوں پر بھی سوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو فروغ دینے والی کانگریس اور جنتا دل (سیکولر) کبھی بھی سرمایہ کاری کو فروغ نہیں دے سکتیں، نہ ہی مقامی نوجوانوں کے لئے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس کا ایجنڈا لوگوں کو گالی دے کر مشتعل کرنا ہے اورکبھی کبھی او بی سی اور لنگایت برادریوں کو بھی گالی دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کانگریس والوں نے مجھے۹۰؍ سے زائد مرتبہ گالی دی ہے اور اب وہ سنچری مکمل کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘‘
کانگریس کے انتخابی منشور میں بجرنگ دل پر پابندی کے تذکرے کو بھی وزیراعظم نے بھنانے کی کوشش کی ۔ انہوں نے کہا کہ ’شری رام‘ کے بعد کانگریس کو بھگوان ہنومان سے بھی مسئلہ ہے۔ کرناٹک کے وجے نگر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ہنومان جی کی اس مقدس سرزمین کی ترقی کرتے ہوئے دیکھنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ آج جب میں یہاں ہنومان جی کو پرنام کرنے آیا ہوں تو سنتا ہوں کہ کانگریس پارٹی نے اپنے منشور میں بجرنگ بلی پر تالا لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔فرقہ وارانہ کارڈ کھیلتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ کانگریس پارٹی کو بھگوان شری رام سے بھی پریشانی ہوتی تھی اور اب اسے جئے بجرنگ بلی کہنے والوں سے بھی پریشانی ہے۔
خیال رہے کہ بی جے پی اول دن سے کرناٹک میں پولرائزیشن کی سیاست اور فرقہ وارانہ مہم کے ذریعہ ہی آگے بڑھنے کی کوشش میں مصروف ہے۔